Monday, October 27, 2014

صوبائی حکومت کی جانب سے کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کے لئے منایا جانے والے یوم سیاہ میں کوئی حکومتی عہدیدار شریک نہیں ہوا لمبی لمبی تقریریں سننے کے لئے صرف سکول کے چھوٹے بچے موجود تھے جو تقریروں کے دوران سوتے رہے





O/C
صوبائی حکومت کی جانب سے کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کے لئے منایا جانے والے یوم سیاہ میں کوئی حکومتی عہدیدار شریک نہیں ہوا لمبی لمبی تقریریں سننے کے لئے صرف سکول کے چھوٹے بچے موجود تھے جو تقریروں کے دوران سوتے رہے
V/O
محکمہ ثقافت کی جانب سے کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے حملے کے خلاف یوم سیاہ منایا نشتر ہال میں منائے جانے والئے یوم سیاہ میں حکومتی اراکیناور عہدیداروں کو دعوت نامے دئیے گئے لیکن کشمیر جیسے سنگین مسئلے پر منائے جانے والے یوم سیاہ میں شرکت کرنے کے لئے کوئی حکومتی عہدیدار شریک نہیں ہوا یہاں تک کہ تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری انفارمیشن میاں مسعود بھی اس تقریب میں شریک نہ ہو پائے کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ اس تقریب میں ادب اور تعلیم سے تعلق رکھنے والی قد آور شخصیات نے لمبی لمبی تقریریں کیں ان تقریروں کو سننے کے لئے بھی ہال میںکوئی موجود نہیں تھا سوائے سکول کے چند بچوں کے جو کہ ان لمبی لمبی تقاریر کے دوران سوتے رہے باقی ہال میں ساری کرسیاں خالی پڑی رہیں تقریب کے منتظمین بار بار مہمان کو فونیں کر کے بلاتے رہے لیکن تقریب کے آخر تک کوئی بھی مہمان نہ پہنچ سکا تقریب کے آخر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے واک کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں محکمہ ثقافت کے اہلکاروں نے بچوں کو فوج کو لیکر واک کی

Monday, September 22, 2014

O/C پشاور میں پولیو مہم کو بڑا دھچکا ایک روز میں 17ہزار والدین نے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا





O/C پشاور میں پولیو مہم کو بڑا دھچکا ایک روز میں 17ہزار والدین نے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا

V/O پشاور میں گزشتہ روز ایک روزہ پولیو مہم کے لئے 7لاکھ 54ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ایک روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیمیں 6لاکھ 23ہزار 67بچوں تک رسائی حاصل کر سکی ایک روزہ انسداد پولیو مہم کو بڑا دھچکا لگا جس میں 17ہزار سے زائد والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا انکاری والدین میں سے بیشتر کا کہنا تھا کہ بچوں کو قطرے پلانے میں افادیت کم ہے لیکن اس کے نقصانات زیادہ ہیں جبکہ کئی کا کہنا تھا کہ پولیو سے بچائو کے قطرے شرعاً جائز نہیں ہیں واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے انکاری والدین میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مہم کا آغاز کای تھا جس کے لئے کروڑوں روپے مختص کئے گئے تھے لیکن اس کے با وجود انکاری والدین کی تعداد میں کمی آنے کی بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے پشاور میں اتوار کے روز ہونے والی ایک روزہ مہم کا تناسب86فیصد رہا جبکہ انسداد پولیو ٹیموں کو پشاور کی حساس ترین یونیون کونسلوں سلمان خیل ،متنی اور شیخان میںرسائی میں مشکلات درپیش تھیں جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں بچے پولیو سے بچائو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے آج نیوز پشاور

خیبر پختونخوا کی نرسز نے عید کے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے مطالبات کے حل تک دھرنے کا اعلان کر دیا


~~NURSES MEETING NEWS~~~O/C

خیبر پختونخوا کی نرسز نے عید کے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے مطالبات کے حل تک دھرنے کا اعلان کر دیا

V/O صدرصوبائی نرسنگ ایسوسی ایشن فرخ جلیل تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مطالبات کو حل نہ کرنے پر صوبہ بھر کی نرسز نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے نرسز کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبات حل نہیں ہو جاتے ہمارا دھرنا جاری رہے گا ان کا کہنا تھا کہ نرسز کے مطالبات کے حل کے لئے صوبائی حکومت نے متعدد بار یقین دہانیاں کروائیں لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ان کا کہنا تھا کہ 2ماہ قبل ہونے والی پروموشن کیسز صرف وزیر اعلیٰ کے دستخط کے لئے ان کی ٹیبل پر پوجود ہیں لیکن تاحال وزیر اعلی اس پر دستخط نہیں کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دے کر ثابت کر دیا ہے کہ جب تک ظالم حکمرانوں کے خلاف دھرنا نہ دیا جائے تب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے اس لئے صوبہ بھر کی نرسز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ جب تک حکومت نرسز کے سروس سٹرکچر ،سروس رولز ڈریس و میس الاﺅنس اور پروموشن کیسز کو حل نہیں کرتی صوبائی حکومت کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ آج نیوز پشاو

Tuesday, March 25, 2014

پشاور پولیس نے چارسدہ روڈ پر میزان بینک میں ہونے والی ڈکیتی واردات می سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی

پشاور پولیس نے چارسدہ روڈ پر میزان بینک میں ہونے والی ڈکیتی واردات می سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی 


سی سی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح ڈاکو بینک میں داخل ہو کر اور بینک میں موجود عملے اور کسٹمرز کو یرغمال بنا لیا جبکہ سیکورٹی گارڈ کی جانب سے مزاحمت پر ڈاکئوں نے فائرنگ شروع کر دی جس سے بینک کے اندر بھگ دڑ مچ گئی ہر کوئی اپنی جانب بچانے کے لئے ادھر ادھت بھاگتے ہیں اسی اثناء میں ڈاکو کیش کائونٹر کی جانب آتے ہیں اور عملے کو کیش روم کی جانب سے جاتے ہیں جہاں وہ پیسے بیگ مین ڈال کر لے جاتے ہیں ڈاکئوں کی فائرن سے 3افراد زخمی ہو گئے تھے پولیس نے دوسرے دن سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے 




Friday, April 26, 2013

خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فریدی آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں حساس قرار دیئے جانیوالے خواتین پولنگ سٹیشن کیلئے سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں



خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فریدی آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں حساس قرار دیئے جانیوالے خواتین پولنگ سٹیشن کیلئے سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں اور اس کیلئے اقدامات اٹھائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی خواتین کمیشن کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا-جس میں مختلف این جی اوز کی خواتین سمیت صوبائی خواتین کمیشن کی زبیدہ خاتون اور فیڈرل وومن کمیشن کی خالد ممتاز نے بھی شرکت کی اس موقع پر خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فرید آفریدی نے بتایا کہ صوبے میں چھ ملین نئی رجسٹریشن خواتین نے نئے انتخابات کیلئے کی ان کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ووٹرز الیکشن میں حصہ لے صوبے میں خواتین کیلئے 2683 پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں اور دو کلومیٹر کے ایریا میں پولنگ سٹیشن بنائے جارہے ہیں جبکہ دیہاتی علاقوں میں خواتین و مردوں کیلئے کمبائنڈ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد5434 ہے ان کے مطابق خواتین کیلئے پولنگ سٹیشن کی تعداد 11962 جبکہ مردوں کیلئے 16629 بنائی گئی ہیں خواتین کی الیکشن ٹرن آؤٹ کو یقینی بنانے کیلئے تمام ریٹرننگ ٗ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں جو دو ممبران پر مشتمل ہوگی جو خواتین کو الیکشن سے روکنے کی شکایات کا نوٹس لیکر ریٹرننگ آفیسر ٗ اور الیکشن کمیشن کو آگاہ کرینگی-

صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی مرتبہ زیادہ خواتین مخصوص نشستوں کے بجائے جنرل سیٹوں پر انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں

 رپورٹ آصف شہزاد

 
صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی مرتبہ زیادہ خواتین مخصوص نشستوں کے بجائے جنرل سیٹوں پر انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں اس بات کا انکشاف صوبائی خواتین کمیشن کے ایک روزہ پروگرام میں ہوا پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہونیوالے اجلاس میں میں بتایا گیا کہ 39 خواتین خیبر پختونخواہ میں الیکشن کیلئے کھڑی ہیں اور لکی ٗ ٹانک ٗ لوئر دیر سمیت صوابی اور باجوڑ میں بھی خواتین امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں فیڈرل وومن کمیشن کی چیئرپرسن خاور ممتاز نے بتایا کہ 2008ء کے الیکشن میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے روکا گیا اور یہ سلسلہ خیبر پختونخواہ سمیت پورے پاکستان میں یکساں ہیں ان کے مطابق ابھی بھی پنجاب کے علاقے حافظ آباد کے کچھ گاؤں میں لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جائیگا ان کے مطابق2008 ء کے الیکشن میں 564 پولنگ سٹیشن پر خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیرو رہا اور اس ماحول کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں ابھی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ان کے مطابق وومن کمیشن کی خواتین کو مانیٹرنگ ٹیم میں شامل کیا جائیگا جو اس بات کو یقینی بنائیگی کہ جن حلقوں میں خواتین کو ووٹنگ سے روکا جائے ان کی اطلاع الیکشن کمیشن کو کی جائیگی

قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹرز کی الیکشن کیلئے رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

 رپورٹ آصف شہزاد

 

قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹرز کی الیکشن کیلئے رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سال 2008 ء کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے فیئر اینڈ فری الیکشن کیلئے کام کرنے والی این جی او فیفن کے مطابق خیبر ایجنسی میں سال 2008 ء میں 37283 خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ سال 2013 ء میں یہ تعداد 134366 تک پہنچ گئی ہیں ااسی طرح کرم ایجنسی میں سال 2008 ء میں یہ تعداد 91000 تھی جو کہ آنیوالے انتخابات کیلئے 125268 ہوگئی ہیں ان کے مطابق مومند ایجنسی میں پچھلے الیکشن میں 25630 خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ 2013 کیلئے 59685 خواتین کی رجسٹریشن کی اسی طرح اورکزئی میں 2008 کے انتخابات کیلئے تیرہ ہزار خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ اب یہ تعداد انچاس ہزار سے زائد ہوگئی ہیں ان کے مطابق نارتھ وزیرستان واحدقبائلی علاقہ ہے جہاں پر خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں کمی آئی ہے کیونکہ وہاں پر سیکورٹی وجوہات اور دیگر علاقوں کو خاندانوں کی بحیثیت آئی ڈی پیز کی وجہ سے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں کمی آئی ان کے مطابق سال 2008 ء میں یہ تعداد 18513 تھی جو کہ اب 11704 ء تک چلی گئی ہیں-