Tuesday, March 25, 2014

پشاور پولیس نے چارسدہ روڈ پر میزان بینک میں ہونے والی ڈکیتی واردات می سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی

پشاور پولیس نے چارسدہ روڈ پر میزان بینک میں ہونے والی ڈکیتی واردات می سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی 


سی سی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح ڈاکو بینک میں داخل ہو کر اور بینک میں موجود عملے اور کسٹمرز کو یرغمال بنا لیا جبکہ سیکورٹی گارڈ کی جانب سے مزاحمت پر ڈاکئوں نے فائرنگ شروع کر دی جس سے بینک کے اندر بھگ دڑ مچ گئی ہر کوئی اپنی جانب بچانے کے لئے ادھر ادھت بھاگتے ہیں اسی اثناء میں ڈاکو کیش کائونٹر کی جانب آتے ہیں اور عملے کو کیش روم کی جانب سے جاتے ہیں جہاں وہ پیسے بیگ مین ڈال کر لے جاتے ہیں ڈاکئوں کی فائرن سے 3افراد زخمی ہو گئے تھے پولیس نے دوسرے دن سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے 




Friday, April 26, 2013

خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فریدی آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں حساس قرار دیئے جانیوالے خواتین پولنگ سٹیشن کیلئے سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں



خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فریدی آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں حساس قرار دیئے جانیوالے خواتین پولنگ سٹیشن کیلئے سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں اور اس کیلئے اقدامات اٹھائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی خواتین کمیشن کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا-جس میں مختلف این جی اوز کی خواتین سمیت صوبائی خواتین کمیشن کی زبیدہ خاتون اور فیڈرل وومن کمیشن کی خالد ممتاز نے بھی شرکت کی اس موقع پر خیبر پختونخواہ الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فرید آفریدی نے بتایا کہ صوبے میں چھ ملین نئی رجسٹریشن خواتین نے نئے انتخابات کیلئے کی ان کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ووٹرز الیکشن میں حصہ لے صوبے میں خواتین کیلئے 2683 پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں اور دو کلومیٹر کے ایریا میں پولنگ سٹیشن بنائے جارہے ہیں جبکہ دیہاتی علاقوں میں خواتین و مردوں کیلئے کمبائنڈ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد5434 ہے ان کے مطابق خواتین کیلئے پولنگ سٹیشن کی تعداد 11962 جبکہ مردوں کیلئے 16629 بنائی گئی ہیں خواتین کی الیکشن ٹرن آؤٹ کو یقینی بنانے کیلئے تمام ریٹرننگ ٗ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں جبکہ مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں جو دو ممبران پر مشتمل ہوگی جو خواتین کو الیکشن سے روکنے کی شکایات کا نوٹس لیکر ریٹرننگ آفیسر ٗ اور الیکشن کمیشن کو آگاہ کرینگی-

صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی مرتبہ زیادہ خواتین مخصوص نشستوں کے بجائے جنرل سیٹوں پر انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں

 رپورٹ آصف شہزاد

 
صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی مرتبہ زیادہ خواتین مخصوص نشستوں کے بجائے جنرل سیٹوں پر انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں اس بات کا انکشاف صوبائی خواتین کمیشن کے ایک روزہ پروگرام میں ہوا پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہونیوالے اجلاس میں میں بتایا گیا کہ 39 خواتین خیبر پختونخواہ میں الیکشن کیلئے کھڑی ہیں اور لکی ٗ ٹانک ٗ لوئر دیر سمیت صوابی اور باجوڑ میں بھی خواتین امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں فیڈرل وومن کمیشن کی چیئرپرسن خاور ممتاز نے بتایا کہ 2008ء کے الیکشن میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے روکا گیا اور یہ سلسلہ خیبر پختونخواہ سمیت پورے پاکستان میں یکساں ہیں ان کے مطابق ابھی بھی پنجاب کے علاقے حافظ آباد کے کچھ گاؤں میں لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا جائیگا ان کے مطابق2008 ء کے الیکشن میں 564 پولنگ سٹیشن پر خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیرو رہا اور اس ماحول کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں ابھی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ان کے مطابق وومن کمیشن کی خواتین کو مانیٹرنگ ٹیم میں شامل کیا جائیگا جو اس بات کو یقینی بنائیگی کہ جن حلقوں میں خواتین کو ووٹنگ سے روکا جائے ان کی اطلاع الیکشن کمیشن کو کی جائیگی

قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹرز کی الیکشن کیلئے رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

 رپورٹ آصف شہزاد

 

قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹرز کی الیکشن کیلئے رجسٹریشن کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سال 2008 ء کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے فیئر اینڈ فری الیکشن کیلئے کام کرنے والی این جی او فیفن کے مطابق خیبر ایجنسی میں سال 2008 ء میں 37283 خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ سال 2013 ء میں یہ تعداد 134366 تک پہنچ گئی ہیں ااسی طرح کرم ایجنسی میں سال 2008 ء میں یہ تعداد 91000 تھی جو کہ آنیوالے انتخابات کیلئے 125268 ہوگئی ہیں ان کے مطابق مومند ایجنسی میں پچھلے الیکشن میں 25630 خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ 2013 کیلئے 59685 خواتین کی رجسٹریشن کی اسی طرح اورکزئی میں 2008 کے انتخابات کیلئے تیرہ ہزار خواتین نے رجسٹریشن کی تھی جبکہ اب یہ تعداد انچاس ہزار سے زائد ہوگئی ہیں ان کے مطابق نارتھ وزیرستان واحدقبائلی علاقہ ہے جہاں پر خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں کمی آئی ہے کیونکہ وہاں پر سیکورٹی وجوہات اور دیگر علاقوں کو خاندانوں کی بحیثیت آئی ڈی پیز کی وجہ سے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن میں کمی آئی ان کے مطابق سال 2008 ء میں یہ تعداد 18513 تھی جو کہ اب 11704 ء تک چلی گئی ہیں-

Thursday, February 28, 2013


پشاور(سٹاف رپورٹر) نیشنل گرڈ سٹیشن میں ہونے والی فنی خرابی کے باعث  جہاں پورا ملک تاریکی میں ڈوبا رہا وہاں صوبائی دار الحکومت پشاور میں قائم فاٹا سیکرٹریٹ روشنی میں جگمگاتا رہا جہاں دن کے اوقات میں بھی لائٹیں روشنا دکھائی دیتی رہیں جس کے دیکھنے کے لئے لوگ ارد گرد کے علاقوں سے آتے رہے کہ یہ بجلی کہاں سے آ رہی ہے تفصیلات کے مطابق پشاور کے ورسک روڈ پر قائم فاٹا سیکرٹریٹ میں دن کے اوقات میں بھی سرچ لائٹس روشن ہیں جس کو دیکھنے کے لئے ارد گرد کے علاقوں کے لوگ دن کے اوقات میں جہاں پورا ملک تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا دیکھنے آتے رہے اس حوالے سے فاٹا سیکرٹریٹ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیکرٹریٹ کے لئے سپیشل لائن لی ہوئی ہے جس کے باعث یہاں پر کسی بھی صورت میں لوڈشیڈنگ یا بریک ڈائون نہیں ہو سکتا ہے 

ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے شہریوں پر ڈومیسائل کاحصول مزید سخت کرتے ہوئے اس کی شرائط میں مزید تبدیلیاں کر دی ہی


آصف شہزاد
ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے شہریوں پر ڈومیسائل کاحصول مزید سخت کرتے ہوئے اس کی شرائط میں مزید تبدیلیاں کر دی ہیں ضلعی انتظامیہ نے پشاور کی سٹیشنری کی دکانوں میں بکنے والے ڈومیسائلوںکو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے  ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ڈومیسائل فارم جاری کر دیئے تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے شہریوں اور طلباء کے حصول کو مزید سخت کرتے ہوئے ان میں علاقہ پٹواری اور گرد آورسمیت تحصیلدار اور ڈپٹی کمشنر کے دستخطوں کوبھی لازمی قرار دے دیا ہے  جبکہ پشاور کی سٹیشنری کی دکانوں میں بکنے والے فارم بھی نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے فارم کو قبول کرنے کا کہا ہے جس کی مالیت 60روپے رکھی گئی ہے جبکہ فارم کے حصول کے لئے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں طلباء و طالبات سمیت والدین کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں والدین کا کہنا ہے کہ  انہوں نے اپنے علاقے کے پٹواری کو کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی ان کا دفتر دیکھا ہے جبکہ اب ان کے بچوں کے امتحانات سر پر آ گئے ہیں اور اس میں ڈومیسائل کی شرط بھی لازمی ہے تو ہم نے بازار سے فارم خرید کر درخواست کی لیکن انہوں نے ان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ڈومیسائل فارم لانے کا کہا دیا ہے ان اک کہنا ہے کہ گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونے کے بعد 60روپے میں فارم ملتے ہیں جبکہ ہفتوں علاقہ پٹواری کے پیچھے خوار ہوتے رہتے ہیں جس کے باعث ہمارا قیمتی ٹائم بھی ضائع ہو جاتا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈومیسائل بنوانے کے لئے نرمی کی جائے تاکہ عوام اور طلباء کا ٹائم بچ سکے 

پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والی بارشوں سے نکاس آب کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور جگہ جگہ نالے ابلنے سے گلی کوچے تالابوں کا منظر پیش کرنے لگے


آصف شہزاد 


صوبائی دارلحکومت پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والی بارشوں سے نکاس آب کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور جگہ جگہ نالے ابلنے سے گلی کوچے تالابوں کا منظر پیش کرنے   لگے ہیں ۔ جس کی وجہ سے شہری و دیہی علاقوں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامناہے اس حوالے سے اندرون شہر کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور اندرون شہر کے مکینوں کو آمد و رفت میں شدید  دشواریوں کا سامنا ہے ۔ مسلسل ہونیو الی بارشوں سے جہاں جہاں تعمیراتی کام جاری ہیں وہاں پر سڑکوں پر پانی  کھڑا رہنے سے دفاتر کو جانے والے ملازمین اور سکول کالجز اور یونیورسٹیوں کو جانے والے طلباء و طالبات کو شدید مشکلات درپیش رہیں ۔اسی طرح بارشوں سے پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں جاری تعمیراتی کاموں میں حلل پڑا ہے جس کی وجہ سے بارشوں میں ارد گرد پانی کھڑا رہنے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے بالخصوص دور دراز علاقوں سے آنے اور ان  علاقوں کو جانے والے مسافروں کو بھی  شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنے سمیت  مریضوں کو پشاور  کے بڑے ہسپتالوں کو لے جانے کے دوران بھی مشکلات کا سامنا رہاہے ۔ بارش کے باعث شہر کی سڑکیں ندی نالوں اور جھیل کا منظر پیش کرتی رہیں جبکہ گلی محلوں میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کا گزرنا محال ہو گیا ۔شہریوں نے پیدل گزرنے کیلئے بڑے بڑے پتھروں کے ذریعے راستے بنائے ۔بارش کی وجہ سے ہشت نگری،لاہوری،سکندر پورہ،نشتر آباد،سکندر پور،شیخ آباد،حسین آباد،اشرف روڈ،باچاخان چوک اور فقیر آباد سمیت دیگر کئی علاقے پانی سے بھر گئے جہاں سے ٹرانسپورٹ سمیت پیدل گزرنا بھی محال تھا ۔بارش اور مین ہولوں کا پانی لوگوں کے گھروں میں بھی داخل ہوا جس سے کئی افراد اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے میں مصروف نظر آئے ۔دوسری جانب بارش کے بعد شہر میں صفائی کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہو گئی اور شہری انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔